Sunday, July 17, 2016

کان پور سے نماز جمعہ کے متعلق ایک مراسلہ


کان پور سے نماز جمعہ کے متعلق ایک مراسلہ
ہمارے محلے میں مسلم سماج کے کئی گھر ہیں۔ شکروار ان کے پوجا پاٹ کا دن ہوتا ہے۔ شکروار کے دن یہ سب لوگ گھروں سے تیار ہوکر نکلتے ہیں اور بڑے مندر پہنچتے ہیں۔ مگر ان پجاریوں کے مندر پہنچنے سے پہلے ہی بڑے پنڈت جی لائوڈ اسپیکر پہ اپنا بھاشن شروع کردیتے ہیں۔
مسلم سماج کے پجاری کھانے پینے کی چیزیں چڑھاووے میں نہیں ڈالتے بلکہ مندر میں روپیہ پیسہ دیتے ہیں۔ اسی دھن سے پروہت اپنے من کا کھانا خرید لیتے ہیں۔ پنڈت جی کا پیٹ اتنا ہی نکلا ہوا ہے جتنا ہندو پنڈتوں کا ہوتا ہے۔
شکروار کے دن مسلم پجاری مندر پہنچ کر پنڈت جی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں اور ان کا بھاشن غور سے سنتے ہیں۔ پھر پنڈت جی پینترا بدلتے ہیں اور شدھ عربی میں اشلوک پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ پجاری عربی بھجن بھی سر جھکا کر سنتے ہیں۔ پھر  پنڈت جی اشارہ کرتے ہیں تو سارے پجاری کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ سب اپنا منہ مہا مندر کی طرف کرلیتے ہیں جو عربستان میں ہے۔ پنڈت جی جیسے جیسے عربی منتر پڑھتے ہوئے اٹھ بیٹھ کر پوجا کرواتے ہیں سارے پجاری ایسا ہی کرتے جاتے ہیں۔ پوجا ختم ہوتی ہے تو پجاری مندر سے نکل کر مٹھائی اور پھل وغیرہ خرید کر گھر کی اور لوٹتے ہیں۔ شکروار کی پوجا ختم کرانے کے بعد بڑے پنڈت جی اپنی چوتھی مہلہ کے گھر چلے جاتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment