Wednesday, January 25, 2017

سلمان حیدر کا اغوا

سلمان حیدر کو غائب ہوئے چوبیس دن ہوگئے ہیں۔ نجم سیٹھی صاب کا خیال تھا کہ سمان حیدر کچھ ہی دنوں میں چھوڑ دئیے جائیں گے۔ یعنی ان کو سمجھانے بجھانے کے بعد، تھوڑی مارپیٹ کے بعد چھور دیا جائے گا۔ مگر ایسا اب تک نہیں ہوا ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر لوگ یہ بات سمجھتے ہیں کہ سلمان حیدر کو ایجنسیون نے اٹھایا ہے۔ فوج کے حمائتی ملا پوچھتے ہیں کہ کیا ثبوت ہے کہ سلمان حیدر کو فوج نے اٹھایا ہے۔ یقینا اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے مگر جس طرح دو جمع دو چار ہوتے ہیں اسی طرح واقعات سے ثابت ہے کہ اس اغوا کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے۔ سول ھکومت کا نہیں، بلکہ فوج کا۔

پہلی وجہ تو نجم سیٹی صاب نے اپنے پروگرام میں بتا دی۔ وہ یہ کہ یہ معلوم ہوگیا ہے کہ دو گاڑیاں سلمان حیدر کو اتھانے آئی تھیں اور یہ بھی معلوم ہوگیا ہے کہ ایک گاری پہ چوری کی نمبر پلٹ لگی تھی۔ اگر ہمارے خفیہ ادارے اس سراغ پہ کام نہیں کررہے تو وجہ واضح ہے۔ وہ کوئی تحقیقات نہیں کرنا چاہتے۔
اس سے پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے کہ خفیہ ادارے خاص خاس کیسون پہ کام نہیں کرتے۔ مثلا کبھی اس کیس پہ کام نہیں ہوا کہ اسامہ بن لادن کس طرح ایبٹ آباد میں چھپاہوا تھا۔

سلمان حیدر کے غائب ہونے کے پیچھے یقینا فوجی خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے، اس کی دوسری وجہ آصمہ جہانگیر صاحبہ
نے بتا دی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج کاکہنا ہے کہ وہ دنیا کی بہترین فوج ہے۔ اور ہم  بھی یہ بات مانتے ہیں تو پھر اگر اس قدر ہشیار فوج پہ انگلیاں اٹھ رہی ہیں تو ان عقلمند لوگوں کو چاہئیے کہ جلدی سے اپنا نام صاف کرین اور تحقیاقات کر کے معاملے کی تہہ تک پہنچیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کررہے تو وضح ہے کہ وہ  ایسا نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ خود اس اغوا کے پیچھے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے ایسا کہا نہیں مگر میرا خیال ہے کہ یہ ان کے دل میں ہے کہ

مینڈک اپنی اوقات بھول جاتے ہیں اور ٹرانا شروع کردیتے ہیں۔ صبین محمود کے واقعے کو کچھ عرصہ ہوگیا تھا اس لیے مینڈک اسے بھلا بیٹھے اور پھر ٹرٹر، ٹرٹر کرنا شروع کردیا۔ اب سلمان حیدر کو اٹھانے کے بعد مینڈک سہم کر خاموش ہوگئے ہیں۔ مگر ہمیں معلوم ہے کہ مینڈکوں کی یہ خاموشی وقتی ہے۔ یہ سلمان حیدر کے واقعے کو بھلا کر پھر ٹرانا شروع کردیں گے۔ انہیں ٹرانا آتا ہے اور ہمیں انہیں خاموش کرنا آتا ہے۔

تو ہواکیا؟
ہوا یہ کہ سلمان حیدر سوشل میڈیا سے گمشدہ بلوچوں کی حیمایت میں بول رہے تھے ار ان کا اس طرح بولنا فوج کو بہت برا لگ رہا تھا۔
ساتھ ہی تھوڑا بہت اویس گورایا جیسے بلاگر کا اسلام کے خلاف لکھنا بھی برا لگ رہا تھا۔
چنانچہ ان سب کو ایک دو دنوں کے وقفے سے اٹھا لیا گیا تاکہ بلوچوں کی  حمایت توہین اسلام کے ساتھ گڈمڈ ہوجائے۔
اور ایسا ہی ہوا۔
فوج کے چیلے، جماعت اسلامی کے بغل بچے ذرا سی دیر میں کھڑے ہوگئے اور اویس گورایا کے ساتھ سلمان حیدر کو بھی توہین اسلام کے الزام میں گھیر لیا گیا۔

تو یہ ہے اسل کہانی۔
برا لگتا ہے مغوی بلوچوں کی حمایت کرنا۔ مگر مارتے ہیں اور اٹھاتے ہیں توہین اسلام کے نام پہ۔
۔۔۔۔۔میں اردو ٹائپنگ کی غلطیوں پہ معافی مانگتی ہوں۔

No comments:

Post a Comment