Sunday, July 3, 2016

حلیمہ رفیق کا آخری انٹرویو




حلیمہ رفیق کا آخری انٹرویو



جب حلیمہ رفیق اسپتال میں داخل تھی تو میں اس سے ملنے گئی تھی۔ مجھے بہت مشکل سے اس بات کی اجازت ملی تھی کہ میں حلیمہ سے کوئی رشتہ داری نہ ہونے کے باوجود اس سے ملاقات کروں۔ حلیمہ سے ملنا میرے لیے بہت اہم تھا۔ مجھے اس ملاقات میں حلیمہ کو اپنا بنانا تھا تاکہ وہ مجھ سے اپنے دل کی ساری بات کرسکے۔ ہم عورتیں بہت حساس ہوتی ہیں۔ کوئی مرد ہمارے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کرے تو ہمارے لیے بہت مشکل ہوتا ہے کہ اس زیادتی کو زبان پہ لائیں۔ ہم اندر ہی اندر اس زیادتی پہ کڑھتی رہتی ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ یہی زہر حلیمہ کو اندر سے مارے جا رہا تھا۔

میں اسپتال میں حلیمہ کے کمرے میں پہنچی تو حلیمہ نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا۔ وہ یقینا ایک اجنبی عورت کو اپنے پاس دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔ میں کمرے میں پڑی کرسی گھسیٹ کر حلیمہ کے پاس بیٹھ گئی۔ میں نے اپنا تعارف کرایا۔

میرا نام فرزانہ ہے۔ میں انسانی حقوق اور بالخصوص حقوق نسواں کی وکیل ہوں۔ میں تمھارے ساتھ ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ تم سچ بول رہی ہو۔ یہ لوگ تمھیں ڈرا دھمکا کر چپ کرانا چاہتے ہیں۔ مگر تمھیں ان لوگوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تم نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ غلط کام تو یہ لوگ کرتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ یہ لوگ پاکستان جیسے ملک میں رہتے ہیں جہاں غلط کام کرنے والے کو کسی قسم کا ڈر نہیں ہوتا۔

حلیمہ چپ چاپ میری طرف دیکھتی رہی۔ مجھے حلیمہ سے ملاقات کے لیے محض آدھا گھنٹہ دیا گیا تھا۔ مجھے اس مختصر مدت میں حلیمہ کا اعتماد حاصل کرنا تھا، اس کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی زیادہ سے زیادہ تفصیلات جاننا تھیں۔ میں نے بات آگے بڑھانے کی غرض سے پہلے اپنی کہانی حلیمہ کو سنانا شروع کی۔

حلیمہ، ہم ایک ایسے غلیظ معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہرلڑکی بلوغت تک پہنچنے سے پہلے ہی جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہے اور پھر پوری عمر وہ اسی عذاب میں گزارتی ہے۔ مغرب میں اس قسم کی زیادتیاں کھول کر بیان کی جاتی ہیں مگر یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں سب کچھ خفیہ رکھا جاتا ہے اور اس وجہ سے یہاں درپردہ بہت گھنائونے کام ہوتے۔ اس معاشرے میں عورت ذات کو بہت چھوٹی عمر میں یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ انسان نہیں ہے بلکہ مرد کی جنسی بھوک کی غذا ہے اور جب جب کسی مرد کا بس چلے گا وہ اس کے جسم سے جس قدر ممکن ہوگا اپنی جنسی پیاس بجھانے کا سامان کرے گا۔

حلیمہ، میں تمھیں ایک راز بتاتی ہوں جو میں نے بہت عرصے اپنے دل میں رکھا۔ جب میں چھوٹی تھی تو ایک مولوی صاحب مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو قرآن پڑھانے گھر پہ آتے تھے۔ میرے گھر والے نادان تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جو شخص اسلام کی راہ پہ چل رہا ہے وہ بہت قابل بھروسہ شخص ہے۔ میرے گھر والے مجھے اور میرے بھائی کو مولوی صاحب کی تحویل میں دے کر گھر کے کام کاج میں مصروف ہوجاتے تھے۔ میری عمر اس وقت نو سال تھی۔ جب پہلی بار اس کمینے مولوی نے میری پنڈلی پہ ہاتھ رکھا تو میں سمجھ نہ پائی کہ وہ کیا کر رہا تھا۔ مجھے اس کا اس طرح مجھے چھونا اچھا نہیں لگا۔ میں نے اس سے دور ہٹنا چاہا مگر اس نے مجھے ڈانٹا کہ میں الٹے ہاتھ سے رحل کو مضبوطی سے پکڑوں اور سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی اس سطر پہ چلائوں جو میں پڑھ رہی تھی۔ میں نے ڈر کے مارے ایسا ہی کیا۔ مگر میں ہر لفظ پہ اٹک رہی تھی کیونکہ میز کے نیچے وہ اپنا کام کررہا تھا۔  وہ اپنا ہاتھ میری ران پہ پھیرتا رہا۔ جب قرآن پڑھنے کا وقت ختم ہوا تو میں بھاگ کر اندر چلی گئی۔ وہ سردیوں کے دن تھے۔ اس رات میں کمبل میں منہ ڈال کر بہت دیر تک روئی۔ مجھے اس مولوی کی یہ بات بہت بری لگی تھی۔ مگر میں کم عمر تھی؛ مجھے مرد کی بھوک کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ کسی نے مجھے یہ باتیں نہیں بتائی تھیں۔ مگر نہ جانے میں اتنی نڈر کیسی تھی کہ میں نے اگلے دن اپنی ماں سے کہہ دیا کہ میں مولوی صاحب سے قرآن نہیں پڑھوں گی۔ میں اصل واقعہ نہ بیان کرپائی۔ میں نے یہ بہانہ کیا کہ مولوی صاحب کے پاس سے بدبو آتی ہے۔ اب اتنے سال بعد مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بہانہ اتنا برا نہ تھا۔ وہ مولوی واقعی بدبوار تھا، غلیظ تھا۔

پھر میں چپ ہوگئی۔ میں چاہتی تھی کہ اب حلیمہ بات کرے۔ میں نے حلیمہ سے اس کے آخری کرکٹ میچ کے بارے میں پوچھا اور اس کے کھیل کی تعریف کی۔ وہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں محتاط انداز میں بات کررہی تھی۔ مگر میں دیکھ سکتی تھی کہ وہ کرکٹ کی محبت میں گرفتار تھی۔ وہ دوسرے ملکوں کی خواتین کھلاڑیوں کے بارے میں بہت کچھ جانتی تھی۔ وہ مجھ سے دھیرے دھیرے کھل رہی تھی۔

میں نے موقع غنیمت جان کر اس سے سلطان انصاری کے بارے میں پوچھ لیا۔

وہ ایک دم خاموش ہوگئی۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام کر اس کی ہمت بڑھائی کہ وہ مجھے صاف الفاظ میں سلطان انصاری کے کالے کرتوتوں کے بارے میں بتائے۔

حلیمہ نپے تلے الفاظ میں بولتی رہی۔ میں حلیمہ سے یہ اگلوانے میں کامیاب ہوگئی کہ سلطان انصاری پرائیویٹ کوچنگ کے بہانے لڑکیوں کو علیحدگی میں بلاتا تھا۔ اور کبھی بائولنگ ایکشن بہتر کروانے کے بہانے، کبھی گیند صحیح طرح کیچ کرنے کا طریقہ بتانے کے بہانے ان کا ہاتھ پکڑتا اور ان کے جسم سے اپنے جسم کو مس کرنے کی کوشش کرتا۔

سلطان انصاری کو وہ لڑکیاں پسند نہ آتیں جو اس سے فاصلہ رکھنے پہ اصرار کرتیں۔ اور اگر کوئی سیدھی سادھی لڑکی سلطان انصاری کے جال میں پھنستی جاتی تو سلطان انصاری جال کو گہرے سے گہرا کرتا جاتا اور اس بات کی نوبت بھی آجاتی کہ وہ لڑکی سلطان انصاری کے بچے کی ماں بن جائے۔



حلیمہ، تم ہمت نہ ہارنا۔ وقت بدل گیا ہے۔ تم اکیلی ہرگز نہیں ہو۔ اس ملک کی تمام عورتیں اور بہت سے مرد تمھارے ساتھ ہیں۔ ہم اس دو ٹکے کے آدمی سلطان انصاری کو تباہ و برباد کر کے دم لیں گے۔ ہم اس کے ساتھی محمد جاوید کا بھی اصل، مکروہ چہرہ پوری دنیا کو دکھائیں گے۔

میرا خال تھا کہ میری یہ باتیں سن کر حلیمہ کی آنکھوں میں ایک چمک نمودار ہوگی، مگر ایسا نہ ہوا۔ حلیمہ بس ٹک ٹکی باندھی مجھے دیکھتی رہی۔ میں نے حلیمہ کا ہاتھ بھینچ کر دبایا اور کمرے سے باہر آگئی۔



حلیمہ سے میری ملاقات کے ایک دن کے بعد ہی مجھے یہ خبر ملی کہ حلیمہ زندگی کی بازی ہارچکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کہانی کے تمام کردار فرضی ہیں۔ اس کہانی کی کسی اصل واقعے سے مطابقت، یا کہانی میں کرداروں کے ناموں کی اصل افراد کے ناموں سے مماثلت محض اتفاقی تصور کی جائے۔

No comments:

Post a Comment